ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / الرقہ میں 2000داعشی جنگجوؤں کی موجودگی کا امریکی دعویٰ

الرقہ میں 2000داعشی جنگجوؤں کی موجودگی کا امریکی دعویٰ

Sat, 05 Aug 2017 16:51:08    S.O. News Service

دمشق،5اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا)داعش مخالف عالمی اتحاد میں امریکا کے خصوصی ایلچی نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے شہر الرقہ میں داعش کے کم سے کم 2000جنگجو موجود ہیں جو اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ امریکی عہدیدار بریٹ میک گورک نے گذشتہ روز صحافیوں کو بتایا کہ شام میں امریکا کی حمایت یافتہ سیرین ڈیموکریٹک فورسز گذشتہ جون سے داعش کے خلاف برسرپیکار ہے۔ ڈیموکریٹک فورسز کو الرقہ میں قریبا دو ہزار داعشی جنگجوؤں کا سامنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ الرقہ میں داعشی جنگجوؤں کی اصل تعداد کا تو اندازہ نہیں تاہم خیال ہے کہ وہاں پر کم سے کم دو ہزار داعشی جنگجو اب بھی موجود ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں میک گورک نے کہا کہ امریکا اور روس کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے باوجود شام کے محاذ میں دونوں ملک ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شام کے محاذ جنگ پر ترکی اور روس کے درمیان ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں کی افواج کا آپس میں رابطہ قائم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ الطبقہ کے اطراف میں تعینات اسدی فوج امریکی فوج کے قریب ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ 28جون کو ہماری فورسز نے اسدی فوج کا ایک جنگی طیارہ اس وقت مار گرایا تھا جب وہ ہمارے فوجیوں کے ٹھکانوں کی طرف بڑھنے کی کوشش کررہا تھا۔ روس کے تعاون سے امریکی اور شامی فوج کے درمیان تصادم کا خطرہ ٹل گیا تھا۔
عراق میں داعش کے خلاف آپریشن کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں گیرک کا کہنا تھا کہ موصل سے داعش کا صفایا کیے جانے کے بعد اب تلعفر میں داعش کے خلاف مقابلہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ تلعفرمیں داعش کے خلاف آپریشن کافی مشکل بھی ہوگا۔میک گیرک نے کہا کہ عراقی فوج اور عوام مل کر داعش کے خلاف آپریشن جاری رکھنے کے حامی ہیں۔ تل عفر کے عوام بھی داعش سے نجات کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تل عفر میں عام شہری آبادی کی تعداد 20ہزار جب کہ داعشی جنگجوؤں کی 1ہزار کے قریب ہوگی۔
 


Share: